Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس دکاندار نے جمعہ کی نماز نہ پڑھی ہو اس سے خریداری کرنا کیسا ؟

Fatwa no.
7341:Nor
Issued
20 محرم الحرام 1438ھ /22اکتوبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا جمعہ کی نماز پڑھ کر اس سے خرید نا کیسا جس نے ابھی جمعہ کی نماز نہیں پڑھی اور اس مسجد میں اذان بھی ہو چکی ہو جس میں دکاندار جمعہ پڑھے گا۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اس دکاندار کا چونکہ مال بیچنا جائز نہیں اور جمعہ کی سعی کرنا اس پر واجب ہو چکا ہے لہذا اس سے خریداری کرنا اس کو گناہ کے کام میں مدد دینا ہے اور ایسا کرنا جائز نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا مَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.doruliftaohlesunnat.net Dar-ul-Ifta Ahlesunnot f daruliftoahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.