Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مٹھائی وغیرہ میں حرام اجزاء شامل ہونے کی صرف افواہ ہوتوان کاحکم

Fatwa no.
04-WAT
Issued
14 محرم الحرام 1443ھ /23اگست 2021ء

Question

انگلینڈ میں ہمارے ہاں کچھ کیک مٹھائی وغیرہ کھائی جاتی ہیں جن میں جانوروں کے اجزاء شامل نہیں ہوتے۔اس کے باوجو د جب ہم نیٹ پر سرچ کرتے ہیں تو ملتا ہے کہ یہ حرام ہیں۔اس بارے میں ہم کیا کریں؟

Answer (beginning)

جب تک کسی چیز کے نجس یا حرام اجزا پر مشتمل ہونے کا یقینی علم نہ ہو ، اس وقت تک اسے حرام نہیں کہہ سکتے۔ خصوصاً وہ اشیاء جو عمومی طور پر جائز اجزاء پر مشتمل ہوتی ہیں اور بلا نکیر عام استعمال کی جاتی ہیں جیسا کہ کیک وغیرہ۔ البتہ آپ جس پروڈکٹ کے بارے میں پوچھنا چاہ رہے ہیں، اس کے اجزاء کی مکمل تفصیل لکھ کر سینڈ کریں تاکہ آپ کی متعینہ صورت کا جواب دیا جا سکے۔ وَ اللهُ أَعْلَمُ مَا جَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.