Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر قانونی گیس سے بنے کھانے کا شرعی حکم

Fatwa no.
02-WAT
Issued
14 محرم الحرام 1443ھ / 23 اگست 2021ء

Question

اگر کسی جگہ پر غیر قانونی سوئی گیس حاصل کر کے استعمال کی جاتی ہے ، تو اس گیس سے بنے والا کھانا کھانا کیسا

Answer (beginning)

غیر قانونی طور پر گیس حاصل کرنا ھو کے اور قانونی جرم ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام اور گناہ ہے ، پھر قانونی جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے پکڑے جانے کی صورت میں اپنے آپ کو ذلت پہ پیش کرنا، جھوٹ بولنا یار شوت دینا پایا جائے گا اور شریعت مطہرو ان کاموں کی بھی اجازت نہیں دیتی۔ لہذا اگر کسی نے غیر قانونی طور پر گیس حاصل کی، اس پر تو بہ کرنالازم ہے، نیز جتنی گیس استعمال کی، اس کا حساب کر کے اس کی رقم محکمے کو پہنچائے۔ البتہ ایسی گیس کے ذریعے کسی نے کھانا بنایا، تو فقط اس وجہ سے وہ کھانا حرام نہیں کہلائے گا، لہذا ممانعت کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہونے کی صورت میں اسے کھانا شرعاً جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.