Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نفع اور نقصان کی تقسیم کاری کا کیا طریقہ ہوگا؟

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر برانڈ کا نام ، رجسٹریشن ، محنت ، مصنوعات کی تیاری اور ترسیل وغیرہ سب کچھ ایک فریق کی طرف سے ہو اور وہ شرکت میں صرف 10,000 روپے کا حصہ ملائے جبکہ دوسرا فریق 90,000 روپے ملائے تو اس صورت میں کیا کام کرنے والا فریق اپنا نفع ب 80 اور دوسرے فریق کا نفع % 20 رکھ سکتا ہے ؟ اور نقصان ہونے کی صورت میں نقصان کی رقم کی تقسیم کاری کا کیا طریقہ کار ہو گا؟

Answer (beginning)

اگر ایک شریک عامل ہو یعنی ورکنگ پارٹنر ہو اور اس کے لیے، اس کے دیئے گئے راس المال یعنی کیپٹل کے تناسب سے زیادہ نفع مقرر کرنے کی شرط لگائی جائے تو اس میں شرعا حرج نہیں البتہ شرکت کا معاہدہ ہوتے وقت دونوں فریقین کو علم ہوناضروری ہے کہ کس کا نفع کیا ہو گا۔ پوچھی گئی صورت میں جس فریق نے صرف دس ہزار روپے ملائے اور وہ ور کنگ بھی کر رہا ہے تو اپنے کیپٹل کے تناسب سے زیادہ نفع مقرر کر سکتا ہے لہذا اس نے اپنے لئے 80 فیصد نفع طے کیا ہے تو شرعاً کوئی حرج نہیں۔ (رد المحتار، 479/6) البتہ نقصان کا اصول یہ ہے کہ جس کا جتنا فیصد سرمایہ یعنی کیپٹل ہے وہ صرف اتنے فیصد نقصان کو بر داشت کرے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.