Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اپنا مال بیچنے کے لئے سیلز مین کو کمیشن دینے کا حکم

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ شوال / ذوالقعدہ 1442ھ جون 2021

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں گارمنٹس کا کام کرتا ہوں کہ سامان تیار کر کے یا خرید کر دکانوں پر سپلائی کرتا ہوں، میں اپنا مال بیچنے کے لئے مارکیٹ میں دکانوں میں جو سیلز مین ہوتے ہیں ان کو کمیشن دیتا ہوں تاکہ سر دست میرا مال فروخت کریں ، جبکہ دکان کے مالک کو اس کمیشن کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا کہ میں اُس کے ملازم کو کمیشن دیتا ہوں، میرے مال کی کوالٹی میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں ہوتی ، مجھے مجبور کمیشن دینا پڑتا ہے ، اگر میں سیلز مین کو کمیشن نہ دوں تو وہ میرا مال فروخت نہیں کرتا، اور یہ معاملہ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ مارکیٹ میں سب پارٹیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ مال نہ بکنے کی صورت میں واپس کر دیا جاتا ہے، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس حالات میں سیلز مین کو کمیشن دینا درست ہے یا نہیں ؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں آپ کمیشن کے نام پر جو کچھ سیلز مین کو دیتے ہیں وہ کمیشن نہیں بلکہ رشوت ہے ، اور رشوت لینا، دینانا جائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ، اور قرآن و حدیث میں اس پر سخت وعیدات وارد ہوئی ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب آپ نے سامان دکاندار کو بیچ دیا تو وہ اب آپ کا نہ رہا بلکہ دکاندار کا ہو گیا لہذا اب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں اپنا مال بیچنے پر کمیشن دے رہا ہوں، بلکہ آپ اپنا کام نکلوانے کے لئے مال دے رہے ہیں کہ سیلز مین کو کچھ مال دوں تا کہ یہ سر دست ترجیجی طور پر میری پروڈکٹ سیل کریں تو مزید مال آئے اور اس طرح اپنی منشاء ( مراد، چاہت) پوری کرنے کے لئے جو مال دیا جاتا ہے وہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.