Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غلطی سے سر کی جانب قدم رکھ کرقبر میں دفن کردیا کیا اب قبر کھول سکتے ہیں؟

Fatwa no.
5252:Sar
Issued
21 صفر المظفر 1438ھ/22نومبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد مرحوم کا انتقال ہوا اور رات کے وقت تدفین کا سلسلہ تھا ہم نے غلطی سے سر کی جانب قدموں کو کر دیا اور منہ بھی قبلہ رخ کرنا بھول گئے تو کیا اب ہم قبر کشائی کر کے میت کی درست تدفین کر سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں قبر کشائی ہر گز نہیں کی جاسکتی کہ یہ حرام ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر میت کے سر کی جگہ پر قدم رکھ دیئے یامنہ قبلہ رخ کرنا بھول گئے تو قبر پر سلیب رکھنے کے بعد اور مٹی ڈالنے سے پہلے یاد آنے پر سلیب ہٹا کر میت کو درست کر سکتے ہیں لیکن مٹی ڈالنے کے بعد قبر کھولنا جائز نہیں ہے اس لئے کہ قبلہ رومنہ کرنا سنت ہے جبکہ قبر کھولنا حرام ہے اور سنت پر عمل کرنے کے لئے حرام کا ارتکاب کرنا جائز نہیں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.