Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا نیٹ یا فون کے ذریعے نکاح ہوسکتا ہے؟

Fatwa no.
5246:Sar
Issued
16 صفر المظفر 1438ھ /17نومبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نیٹ یا ٹیلی فون کے ذریعے نکاح کرنے کی شریعت میں کیا حیثیت ہے؟ سائل: مولانا محمد عبد الله عطاری (علی گارڈن، فیصل آباد )

Answer (beginning)

نکاح صحیح ہونے کے لئے چند شرائط کا پایا جاناضروری ہے جن میں سے ایجاب و قبول کا ایک مجلس میں ہونا بھی ضروری ہے ۔ لہذا نیٹ یا ٹیلی فون پر نکاح درست نہیں کہ ایجاب و قبول کی مجلس مختلف ہے ہاں اگر نیٹ یاٹیلی فون پر کسی کو وکیل بنادیا جائے اور وہ وکیل گواہوں کی موجودگی میں اپنے مؤکل کا نکاح پڑھا دے تو شرعاً جائز ہو گا۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftachlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftochlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.