Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیٹوں نے نماز جنازہ پڑھ لی اب دوبارہ گاؤں والوں کا نماز جنازہ پڑھنا کیسا؟
- Answered by
- مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- 5245:Sar
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا شہر میں انتقال ہوا شہر میں ہی اس شخص کے بیٹوں اور دیگر ورثاء نے نماز جنازہ پڑھ لی لیکن ورثاء اپنے آبائی گاؤں میں اس شخص کو دفنانا چاہتے ہیں تو گاؤں والوں کا دوبارہ اس شخص کا جنازہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں جبکہ میت کے اولیاء نماز جنازہ پڑھ چکے ہیں تو گاؤں والوں کا دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں کیونکہ جب میت کے اولیاء میں سے کوئی ولی نماز جنازہ پڑھ لے یا ولی کی اجازت سے نماز جنازہ پڑھادی جائے تو کسی کے لئے بھی دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا مَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) f daruliftoahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftochlesunnat.net www.daruliftaohlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.