Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مرغی اور انڈوں کی تجارت پر زکوٰۃ کا حکم
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ شعبان المعظم 1442ھ اپریل
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (1) بعض لوگ اس نیت سے مرغیاں خریدتے ہیں، کہ ان کو پال کر بڑا کر کے بیچ دیں گے۔ (2) بعض لوگ اس نیت سے مرغیاں خریدتے ہیں کہ ان کی پرورش کر کے ان سے انڈے حاصل کریں گے اور ان کے انڈے بیچیں گے ، مرغیاں بیچنا مقصود نہیں ہوتا۔ ان دونوں صورتوں میں مرغیاں خریدنے والے شخص کے لئے زکوۃ کی ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہو گا؟
Answer (beginning)
(1) پوچھی گئی پہلی صورت میں یہ مرغیاں مالِ زکوۃ میں شامل ہوں گی، لہذا اگر یہ تنہا نصاب کو پہنچ جاتی ہیں، یا دیگر اموالِ زکوۃ(سونا، چاندی، مالِ تجارت ، پرائز بانڈز اور کسی بھی ملک کی کرنسی) کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچ جاتی ہیں ، اور دیگر شرائط بھی پائی جائیں ، تو اب ان پر زکوۃ لازم ہو گی۔ نصاب سے مراد ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے مساوی کوئی مال مثلار قم وغیرہ ہے۔ (الدر المختار متن رد المحتار، 234/3، بہارِ شریعت، 892/1) (2) اس صورت حال کے مطابق مرغیوں پر زکوۃ لازم نہیں ہو گی اور ان سے حاصل ہونے والے انڈوں پر بھی زکوۃ لازم نہیں ہوگی کیونکہ یہ مالِ تجارت نہیں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.