Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اپنی روٹی الگ پکاؤ،مجھ سے دورہوجاؤ کیا یہ الفاظ کہنے سے طلا ق ہوجاتی ہے یا نہیں؟
- Answered by
- مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- 5243:Sar
- Issued
- 16 صفر المظفر 1438ھ/17نومبر 2016ء
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کمیری زوجہ سے لڑائی ہوئی میں نے غصے میں اپنی زوجہ کو کہا کہ تم اپنی روٹی پکاؤ میری نہ پکاؤ میں اپنا انتظام خود ہی کر لوں گا تم مجھ سے دور ہو جاؤ اور میں اس بات پر قسم کھاتا ہوں کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی اور نہ ہی ہمارے درمیان یہ الفاظ کہنے سے پہلے اور بعد میں کوئی طلاق کی گفتگو ہوئی تھی، تو میرے اس طرح کہنے سے طلاق ہوئی یا نہیں؟
Answer (beginning)
اگر واقعی ایسا ہی ہے جیسا سائل نے بیان کیا ہے تو صورت مسئولہ میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا جَال وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم سائل: محمد حسنین (فیصل آباد) Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftoahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftachlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.