Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مدرسے کے لئے پلاٹ دینے کے بعد کیا واپس لے سکتے ہیں؟

Fatwa no.
5239:Sar
Issued
16 صفر المظفر 1438ھ /17نومبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ایک پلاٹ مدرسہ کے لئے وقف کیا اور قبضہ بھی دے دیا لیکن پیسے نہ ہونے کی وجہ سے تین چار سال تک اسے بنایا نہ جا سکا اب زید کہتا ہے کہ میرا پلاٹ مجھے واپس کر دو میں اپنے ذاتی استعمال میں لاؤں گا یامدرسہ کے علاوہ کسی اور مصرف میں صرف کر دوں گا، کیا زید وہ پلاٹ واپس لے سکتا ہے یا کسی اور مصرف میں صرف کر سکتا ہے ؟ سائل: محمد فیاض (فیصل آباد)

Answer (beginning)

زید نے جو پلاٹ مدرسہ کے لئے وقف کیا ہے اسے واپس اپنی ملک میں لانا یا کسی اور مصرف میں صرف کرنا سخت ناجائز ، حرام و گناہ ہے، کیونکہ جس چیز کو وقف کر دیا جائے وہ واقف کی ملک سے نکل جاتی ہے نہ واقف اسے واپس لے سکتا ہے اور نہ ہی وقف کئے گئے مصرف کے علاوہ کسی اور مصرف میں صرف کر سکتا ہے بلکہ جس مقصد کے لئے وقف کیا ہے اسی پر باقی رکھنا واجب ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَدَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaohlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.