Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جو ریپرینگ کے لئےسامان دے جاتے ہیں مگرواپس لینے نہیں آتےان کا کیا کریں؟

Answered by
مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
5223:Sar

Question

کا کیا کریں؟ دَارُ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں الیکٹرک مکینک ہوں الیکٹرونکس کی خراب اشیاء میرے پاس ٹھیک ہونے کے لئے آتی ہیں میں ٹھیک کر کے دے دیتا ہوں لیکن بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ میں چیز ٹھیک کر دیتا ہوں اور ایک عرصہ گزرنے کے باوجو د مالک اپنا سامان لینے نہیں آتا تو میں اس سامان کا کیا کروں اور بعض چیزیں مثلاًmicrowave oven کی ڈیجیٹل کٹ اور اسی طرح بعض دوسری چیزوں کی ڈیجیٹل کٹ ٹھیک ہونے کے لئے آتی ہے جنہیں ایک مرتبہ open کرنے کے بعد انہیں ایک عرصہ تک استعمال نہ کیا جائے تو یہ استعمال کے قابل نہیں رہتیں؟ سائل: محمد سلیم (فیصل آباد)

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں آپ اجیر مشترک ہیں آپ کے پاس جو سامان ٹھیک ہونے کیلئے آتا ہے وہ امانت ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ جب تک اس چیز کا مالک نہیں آتا اس کی حفاظت کرے اور اگر وہ ایسی چیز ہے جس کے ضائع ہو جانے کا اندیشہ ہو یا پڑے پڑے خراب ہو جانے کا خطرہ ہو اور مالک کا کوئی پتہ نہیں تو اس کو بیچ کر اس کی قیمت محفوظ کر لے جب مالک آئے گا تو اسے وہ پیسے دیدے اور اگر بعد میں معلوم ہوا کہ مالک مر گیا ہے تو اس کے وارثوں کو دیدے اور اس چیز کو صدقہ نہیں کر سکتا لیکن یہ یاد رکھیں کہ الیکٹرونکس کی بہت کم چیزوں میں یہ احتمال ہوتا ہے کہ جلد خراب ہو جائیں، لہذا اسے محفوظ رکھنے کو ہی ترجیح دیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.