Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اسمگل شدہ موبائل کی خریدوفروخت کرنا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جمادی الآخر 1442ھ
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ موبائل کی ایک مارکیٹ میں اسمگل شدہ موبائل آتے ہیں جب یہ موبائلز مارکیٹ میں آجاتے ہیں تو ان پر قانونی سختی نہیں ہوتی اور ان کی خرید و فروخت سر عام ہوتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے قانونی طور پر پکڑ وغیرہ نہیں ہوتی۔ ان مو با ئلز کو خرید نا اور بیچنا جائز ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
اسمگلنگ کرنا نا جائز ہے کیونکہ یہ غیر قانونی ہے اور پکڑے جانے کی صورت میں بڑی ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپنے آپ کو ذلت اور ہلاکت پر پیش کرنے سے رب قدیر نے منع فرمایا ہے۔ مارکیٹ میں موبائل آنے کے بعد اس کی سرعام خرید و فروخت میں اگر واقعی قانونی سختی اور گرفت نہیں ہوتی تو اس کی خرید و فروخت میں شرعا حرج نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.