Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کے غیرضروری بال کاٹنا
- Fatwa no.
- 57 :Web
- Issued
- 14 جمادی الآخر 1442ھ / 28 جنوری 2021ء
Question
ہے؟ (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میت کو غسل دیتے وقت اس کے غیر ضروری بال کاٹنا کیسا
Answer (beginning)
میت خواہ مرد ہو یا عورت اسکے بدن کے کسی حصے سے بال کاٹنا شر عانا جائز و مکروہ تحریمی ہے اور اس کے متعلق حکم یہ ہے کہ میت جس حالت پر ہو اسے ویسے ہی رہنے دیا جائے۔ بہار شریعت میں ہے: "میت کی داڑھی یا سر کے بال میں کنگھا کرنا یا ناخن تراشنا یا کسی جگہ کے بال مونڈنا یا کترنا یا اُکھاڑنا، ناجائز و مکروہ و تحریمی ہے بلکہ حکم یہ ہے کہ جس حالت پر ہے اسی حالت میں دفن کر دیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.