Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فرضوں کے بعد ہاتھ اٹھا کردعا مانگنا اورمقتدیوں کا آمین کہنا

Fatwa no.
56:Web
Issued
14 جمادى الآخر 1442ھ / 28 جنوری 2021ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مساجد میں امام صاحب ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں اور پیچھے بیٹھے ہوئے سارے لوگ آمین کہتے ہیں کیا یہ درست ہے ؟

Answer (beginning)

امام و مقتدی کا فرائض و سنن کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعامانگنا سنت مستحبہ اور درست طریقہ ہے، اس کا ثبوت قرآن کریم کی آیات اور احادیث طیبہ میں موجود ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا : ” فَإِذَا فَرَ خُتَ فَانْصَب “ ترجمہ کنز العرفان : ” تو جب تم فارغ ہو تو خوب کوشش کرو۔“ (پارہ 30،سورۃ الشرح، آیت 7) اس کے تحت تفسیر خازن، تفسیر بیضاوی، تفسیر کبیر ، تفسیر مدارک، تفسیر عزیزی، تفسیر جمل، تفسیر در منثور ، تفسیر جلالین میں ہے کہ " جب تم نماز سے فارغ ہو تو دعا میں مشغول ہو جاؤ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.