Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہل جائے تو؟

Fatwa no.
51:Web

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز کے دوران دائیں پاؤں کا انگوٹھا اٹھانے یا ہلانے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

Answer (beginning)

نماز میں اگر پاؤں کا انگوٹھا اپنی جگہ سے اٹھ جائے یا ہل جائے تو اس سے نماز پر اثر نہیں پڑتا، چاہے جان بوجھ کر ہو یا انجانے میں۔ عوام میں جو مشہور ہے کہ انگوٹھا اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے ، یہ درست نہیں۔ مفتی خلیل خان برکاتی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”انگوٹھا خواہ انگلی بلکہ پاؤں کا پورا پنجہ اگر اپنی جگہ سے ہل جائے یا سرک جائے تو اس سے نماز میں فساد نہیں آتا۔ پیر کی ایک انگلی کا پیٹ زمین پر جمنا سجدہ میں شرط ہے اور ہر پیر کی تین انگلیوں کا پیٹ جمنا واجب اور ہر پاؤں کی تمام انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگنا سنت ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.