Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ٹیوشن کی ایڈوانس فیس لینا

Fatwa no.
50 :Web

Question

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ٹیوشن پڑھانے والے عام طور پر ایڈوانس فیس لیتے ہیں، یعنی ابھی بچے کو ٹیوشن میں داخل کروایا ہے، تو فیس پہلے سے ہی دینا ہوتی ہے اسی طرح اگلے ماہ کے شروع ہونے سے پہلے ہی فیس لیتے ہیں، کیا شرعا یہ جائز ہے۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں ایڈوانس فیس لینا جائز ہے۔ بہار شریعت میں ہے : " اجرت ملک میں آنے کی چند صورتیں ہیں (1) اس نے پہلے ہی سے عقد کرتے ہی اجرت دیدی دوسرا اس کا مالک ہو گیا یعنی واپس لینے کا اس کو حق نہیں ہے (2) یا پیشگی لینا شرط کر لیا ہو اب اجرت کا مطالبہ پہلے ہی سے درست ہے۔“ (بہار شریعت، جلد: 3،صفحه:110،مطبوعه مكتبة المدينه) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.