Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا بغیر سینگ والے جانور کی قربانی ہو جائیگی؟
- Fatwa no.
- 43:Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بیل کے سینگ خوبصورتی کے لیے جڑ سے نکال دیئے جاتے ہیں اور کچھ عرصے میں زخم صحیح ہو جاتا ہے کیا ایسے بیل کی قربانی جائز ہے ؟
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔ تفصیل اس مسئلہ میں یہ ہے کہ جس جانور کاسینگ ٹوٹ گیا ہو ، اگر سر کے اوپر والا حصہ ٹوٹا ہو جو ظاہر ہوتا ہے تو قربانی جائز ہے اور اگر سینگ سر کے اندر جڑ تک ٹوٹے یا جڑ سے نکال دیے گئے تو اس صورت میں اگر سر کا زخم ٹھیک ہو جائے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے تو اس کی قربانی جائز ہے کیونکہ سینگ کا ٹوٹنا اس وقت عیب شمار ہوتا ہے ، جبکہ جڑ سمیت ٹوٹ جائے اور زخم بھی ٹھیک نہ ہوا ہو تو اس عیب کے پائے جانے کی وجہ سے قربانی جائز نہیں ہوتی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.