Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اذانِ جمعہ کے بعد چیز بیچنے کا حکم

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ جمادی الاولی 1442ھ

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا جمعہ کی نماز پڑھ کر اس دکاندار سے خرید نا کیسا جس نے ابھی جمعہ کی نماز نہیں پڑھی جبکہ اس مسجد میں اذان بھی ہو چکی ہے جس میں دکاندار جمعہ پڑھے گا ؟

Answer (beginning)

اگرچہ خریدار خود جمعہ پڑھ چکا ہے لیکن پوچھی گئی صورت میں اس دکاندار کا چونکہ مال بیچنا جائز نہیں اور جمعہ کی سعی کرنا اس پر واجب ہو چکا ہے لہذا اس سے خریداری کرنا اس کو گناہ کے کام میں مدد دیتا ہے اور ایسا کرنا جائز نہیں۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ عَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnot f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.