Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیوی کی موجودگی میں اُسکی بھتیجی سے نکاح کا شرعی حکم
- Fatwa no.
- 30:Web
- Issued
- 01 جمادی الاولی 1442ھ /17دسمبر 2020ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اپنی زوجہ کی موجودگی میں اس کی بھتیجی سے نکاح کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
Answer (beginning)
اپنی زوجہ کی موجودگی میں اس کی بھتیجی سے نکاح جائز نہیں ، کیونکہ یہ پھوپھی اور بھتیجی کو نکاح میں جمع کرنا ہے جو کہ جائز نہیں۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے: " نھی رسول اللہ صلی الله عليه وسلم أن تنكح المرأة على عمتها " ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی پر نکاح کیا جائے۔ (الصحیح البخاری صفحہ 940،مطبوعه المكتبةالعصريه بيروت) البحر الرائق میں ہے: " لا يجمع الرجل بين امرأة وابنة أخيها" ترجمہ: مرد کا پھوپھی اور بھتیجی کو نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.