Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

خریداری میں پیسے کم کروانا

Fatwa no.
27: Web
Issued
23 ربیع الثانی 1442ھ / 09دسمبر 2020ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب ہم کوئی چیز خریدتے ہیں تو دکان والا ہمیں زیادہ پیسے بتاتا ہے تو کیا ہم اس سے پیسے کم کروا سکتے ہیں یا اتنے ہی دیں گے ؟

Answer (beginning)

خریداری کے وقت پیسے کم کروانا کوئی معیوب یا خلاف مروت کام نہیں بلکہ سنت ہے۔ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: بھاؤ (میں کمی) کے لئے حجت (بحث و تکرار ) کرنا بہتر ہے بلکہ سنت۔ (فتاوی رضویہ، ج17، ص128،رضا فاؤنڈیشن لاہور) سنت۔(فتاوی اس سنت پر عمل کرتے ہوئے ہمارے بُزرگانِ دین رحمھم اللہ اشیا کی خریداری میں قیمت کم کروانے کی کوشش کرتے تھے۔ چنانچہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما جو کچھ خریدتے، ستا خریدتے اور اس میں تکرار و اصرار کرتے۔ لوگوں نے ان سے عرض کی: آپ حضرات روزانہ کئی ہزار درہم خیرات کر دیتے ہیں مگر معمولی مقدار پر اس قدر تکرار و اصرار میں کیا راز ہے؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.