Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جن میتوں کا معلوم نہ ہو کہ مسلم کی ہیں یا کافرکی تو نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

Fatwa no.
5184:Sar
Issued
13 محرم الحرام 1438ھ 15 اکتوبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بسا اوقات بم دھماکے میں کئی افراد ہلاک ہو جاتے ہیں اور ہر مرنے والے فرد کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ مسلم ہے یا کافر تو اس صورت میں نماز جنازہ کا کیا حکم ہو گا؟ سائل: محمد رضوان عطاری (فیصل آباد)

Answer (beginning)

بم دھماکے یاکسی اور حادثے میں جب کئی افراد ایک ساتھ ہلاک ہو جائیں تو جس کے بارے میں کسی علامت سے معلوم ہو جائے کہ یہ مسلمان ہے یا کافر تو مسلمان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور کافر کی نہیں ، اور اگر علامت کے ذریعے معلوم نہ ہو پائے تو پھر علاقے کا اعتبار کیا جائے گا کہ اگر مسلمانوں کا علاقہ ہے تو انہیں مسلمان تصور کر کے نماز جنازہ ادا کریں گے اور اگر کافروں کا علاقہ ہے تو نماز جنازہ نہیں پڑھیں گے، اور اگر دھماکے میں مرنے والوں کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو کہ اس میں مسلمان بھی ہیں اور کافر بھی تو علامت کے ذریعے مسلم یا کافر ہونا واضح ہو تو وہی حکم ہو گا جو اوپر مذکور ہوا اور اگر علامت سے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.