Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زنا کے حمل والی سے نکاح
- Fatwa no.
- 22: Web
- Issued
- 23 ربیع الثانی 1442ھ / 09دسمبر 2020ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کنواری لڑکی سے معاذ اللہ کسی نے زنا کیا اور اسے حمل بھی ٹھہر گیا تو کیا اب اس لڑکی کا، حمل کی حالت میں زانی سے یا کسی دوسرے سے نکاح کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
زنا کرنا، بے حیائی کا کام ، گناہ ، ناجائز و حرام اور جہنم کا مستحق بنانے والا کام ہے۔ زانی ( زنا کرنے والا مرد) اور زانیہ ( زنا کرنے والی عورت) دونوں پر سچے دل سے تو بہ لازم ہے۔ جہاں تک نکاح کا سوال ہے تو اگر چہ زنا سے حمل ٹھہر جائے تب بھی ایسی عورت کا اس حالت میں بھی نکاح ہو سکتا ہے۔ ایسی عورت کا نکاح اگر اسی مرد سے ہوا، جس سے زنا کا حمل ہوا ہے تو وہ نکاح کے بعد بچہ پیدا ہونے سے پہلے ہمبستری بھی کر سکتا ہے ، اور اگر ایسی عورت کا نکاح زنا کرنے والے کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے ہوا تو اب بھی اگر چہ نکاح ہو جائے گا ، مگر جب تک بچہ پیدا نہ ہو جائے تب تک ہمبستری نہیں کر سکتا نہ ہی دواع جماع یعنی بوس…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.