Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مکان گروی لینا

Fatwa no.
21:Web
Issued
23 ربیع الثانی 1442ھ / 09دسمبر 2020 ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرض دے کر مکان گروی لینا، اسے استعمال کرتے رہنا، پھر جب قرضدار قرض واپس کرے تو اسے مکان واپس کر دینا، کیا یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

گروی مکان یوں لینا کہ مکان کے مالک کو چند لاکھ روپے قرض کے طور پر دے دئے اور اس کا مکان استعمال کرتے رہے یا کرائے پر دے دیا اور کرایہ قرض دینے والا لیتا رہا، پھر جب مالک مکان نے قرض واپس کر دیا تو قرض دینے والے نے اس کو مکان واپس کر دیا یہ طریقہ سودی طریقہ ہے اور ناجائز و حرام ہے، کیونکہ اس میں قرض دے کر اس سے نفع اٹھانا پایا جاتاہے اور قرض پر نفع لینا سود ہے۔ قرض پر نفع لینا سود ہے اس کے بارے میں الجامع الصغیر میں حدیث پاک ہے: " کل قرض جو منفعة فهوربا“ ترجمہ : ہر وہ قرض جو نفع لے کر آئے وہ سود ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.