Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ولیمہ بڑے پیمانے پر نہ کرنے کا شرعی حکم
- Fatwa no.
- 10224:Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کی اتنی استطاعت نہ ہو کہ وہ با قاعدہ وسیع پیمانے پر ولیمہ کرے، لہذاوہ شب زفاف کے بعد گھر میں ہی کھانا پکا کر سسرال کے کچھ افراد کو بلا کر دعوت ولیمہ کرلے، تو کیا اس کا ولیمہ ہو جائے گا؟ ر ہنمائی فرمادیں۔
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں ولیمہ ہو جائے گا، کیونکہ ولیمہ کے لیے یہ بات لازم و ضروری نہیں کہ وہ زیادہ اہتمام کے ساتھ ہی کیا جائے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ مرد اپنی حیثیت کے مطابق دعوت ولیمہ کا اہتمام کرے۔ صحیح بخاری شریف کی حدیث مبارک ہے: ” قال النبی صلی الله علیه وسلم اولم ولو بشاة ،یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ولیمہ کرو،اگرچہ بکری ہی سے ہو۔ (صحیح البخاری، کتاب النکاح، جلد 02، صفحه 777، مطبوعہ کراچی) علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمۃ اس حدیث مبارک کے تحت فرماتے ہیں : ” قال عیاض: واجمعوا على ان لا حد لاكثرها، واما اقلها فکذلک، و مهما تيسر اجزأ، والمستحب انها على قدر حال الزوج،یعنی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.