Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حالت حیض میں وضو کرنے پر طہارت کا شرعی حکم
- Fatwa no.
- 09 :Web
- Issued
- 10 ربیع الثانی 1442ھ / 26 نومبر 2020 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی عورت نے حالت حیض میں وضو کیا تو اس کا وضو ہو گا یا نہیں؟
Answer (beginning)
حالت حیض میں بھی عورت کے لیے بہتر ہے کہ وہ نماز کے وقت میں وضو کر کے اتنی دیر تک ذکر الہی اور درود شریف وغیرہ پڑھنے میں مشغول رہے، جتنی دیر میں وہ نماز ادا کر لیتی ہے، لیکن اس وضو سے اسے وہ طہارت حاصل نہیں ہوگی جس کی بنیاد پر وہ نماز پڑھ سکے یا قرآن مجید کی تلاوت کر سکے یا بلا حائل اسے چھو سکے۔ یہ حکم صرف اس لیے ہے کہ اس کی نماز کی عادت بر قرار رہے۔ بہار شریعت میں ہے : "نماز کے وقت میں وضو کر کے اتنی دیر تک ذکر الہی، درود شریف اور دیگر وظائف پڑھ لیا کرے جتنی دیر تک نماز پڑھا کرتی تھی کہ عادت رہے“۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.