Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ایک سے زائد مرتبہ نمازجنازہ پڑھنا

Fatwa no.
07: Web
Issued
09 ربیع الثانی 1442ھ / 25 نومبر 2020ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کی نماز جنازہ ایک مرتبہ شہر میں ادا کی گئی اور دوسری مرتبہ جب میت گاؤں لے کر گئے وہاں ادا کی گئی۔ پہلی مرتبہ میں ایک بیٹا شریک ہوا اور دوسری مرتبہ میں دوسرا بیٹا شریک ہوا، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر ولی میت نے ایک بار نماز جنازہ ادا کر لی ہو تو دوسری بار دوسر اولی یا کوئی اور شخص نماز جنازہ پڑھ سکتا ہے یا نہیں شرعی اعتبار سے رہنمائی فرمائیں ؟

Answer (beginning)

میت کا ایک ولی جب نماز جنازہ ادا کر لے تو اس کے بعد کسی دوسرے ولی یا شخص کو دوبارہ نماز جنازہ ادا کرنا جائز نہیں کیونکہ فقہائے احناف کے نزدیک نماز جنازہ کی تکرار مطلقانا جائز ہے سوائے ایک صورت کے ، وہ یہ کہ جب کوئی ایسا شخص جسے جنازہ پڑھانے کا حق حاصل نہیں ولی کی اجازت کے بغیر نماز جنازہ پڑھا دے اور کسی ولی نے نماز جنازہ ادا نہ کی ہو تو میت کا ولی دوبارہ نماز ادا کر سکتا ہے کیونکہ یہ اس کا حق ہے اور دوسرے جنازے میں فقط وہی افراد شریک ہوں گے جو پہلے جنازے میں شریک نہ تھے لہذا صورت مسئولہ میں میت کے ایک بیٹے نے جب نماز جنازہ ادا کر لی تھی تو دوسرے بیٹے کا گاؤں جاکر وہاں دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.