Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیوی کو ماں بہن بیٹی کہہ کربلانا
- Fatwa no.
- 06: Web
- Issued
- 09 ربیع الثانی 1442ھ / 25 نومبر 2020ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو باجی ،ماں یا بیٹی کہہ بیٹھے تو اس کے لیے کیا حکم ہے کیا اس سے نکاح ختم ہو جاتا ہے ؟
Answer (beginning)
شوہر کا اپنی بیوی کو فقط ماں، بہن، بیٹی وغیرہ کہہ کر پکارنا یا یوں کہنا کہ تم میری ماں، بہن ، باجی وغیرہ ہو ، ناجائز و گناہ ہے جس سے توبہ کرنا اس پر لازم ہے البتہ اس سے نکاح پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی ظہار وغیر ہ لازم ہو تا ہے ہاں اگر اس طرح کے الفاظ کہے ” تو میری بہن کی طرح ہے، تو میری بیٹی کی مانند ہے ، تومیری ماں کی مثل ہے وغیرہ تو اس صورت میں ان کلمات سے جو نیت کرے گا اسی کا اعتبار ہو گا اگر اُس کے اعزاز کے لیے کہا تو کچھ لازم نہیں، طلاق کی نیت ہے تو بائن طلاق واقع ہو گی ، ظہار کی نیت ہے تو ظہار ہے اور تحریم ( حرام کرنے ) کی نیت ہے تو ایلا ہے اور اگر کچھ بھی نیت نہیں تھی ایسے ہی کہہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.