Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کمیٹی ڈالنا کیسا ہے؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ربیع الآخر 1442ھ

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کمیٹی ڈالنا جائز ہے یا ناجائز؟

Answer (beginning)

عام طور پر کمیٹی اس طرح ڈالی جاتی ہے کہ ہر مہینے کچھ افراد مقررہ مقدار میں پیسے جمع کرواتے ہیں اور کسی ایک کا نام منتخب کر کے جمع شدہ پیسے اسے دے دیتے ہیں، یوں آگے پیچھے تمام افراد کو ایک ایک کر کے اپنے جمع کروائے ہوئے پیسے مل جاتے ہیں۔ اس انداز پر رہ کر یہ کمیٹی ڈالنا، جائز اور درست ہے۔ البتہ کچھ کمیٹیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں بولی لگائی جاتی ہے اور جو سب سے کم بولی لگاتا ہے بولی شدہ رقم اس کو دے دی جاتی ہے اور باقی جو رقم بچتی ہے وہ دیگر شرکاء میں تقسیم ہو جاتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.