Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چوری کا مال سستا مل رہا ہو تو خریدنا کیسا؟

Fatwa no.
03
Issued
03, بیع الثانی 1442ھ/19 نومبر 2020ء

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک چیز کا پتہ ہو کہ یہ چوری کی ہے اور سستی مل رہی ہو تو خرید نا کیسا؟

Answer (beginning)

جب معلوم ہے کہ یہ چوری کا مال ہے تو اس کا خرید نا حرام و گناہ ہے بلکہ اگر یقینی طور پر معلوم نہ ہو لیکن کوئی واضح قرینہ ہو جس کی بنیاد پر یہ گمان قائم ہو کہ یہ چوری کا مال ہے تب بھی خریدنا، جائز نہیں۔ ہاں اگر معلوم نہ ہو اور نہ ہی کوئی ایسا قرینہ ہو تو خرید نا، جائز ہے لیکن خریدنے کے بعد معلوم ہو گیا کہ یہ چوری کا ہے تو اب اس کا استعمال جائز نہیں بلکہ مالک کو واپس کر نالازم ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.