Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سجدۂ تحیت کے متعلق حکم
- Fatwa no.
- 5191:Sar
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا امت محمدیہ میں ایک انسان کا کسی دوسرے انسان کو سجدہ تحیت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر کوئی امام مسجد اپنے مریدوں سے سجدہ کرواتا ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
سائل: ندیم شریف (فیصل آباد) غیر خدا کو عبادت کی نیت سے سجدہ کرنا کفر ہے اور تحیت کی نیت سے سجدہ کرنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور جو پیر اپنے مریدوں سے سجدہ تحیت کرواتا ہے وہ سخت فاسق و فاجر اور گنہگار ہے، اس کی بیعت جائز نہیں اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز ، گناہ اور واجب الاعادہ ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا مَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) daruliftoahlesunnat f DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftoahlesunnat.net www.daruliftaohlesunnat.net Dar-ul-Ifta Ahlesunnot
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.