Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچوں کی لاٹریاں خریدنا بیچنا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ ذوالحب الحرام 1441ه
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دکانوں پر بچوں کے لیے لاٹریاں ہوتی ہیں وہ خرید نا اور بیچنا جائز ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
خرید و فروخت کی ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ جو چیز خریدی جارہی ہے وہ معلوم ہو اس میں جہالت نہ ہو۔ بچوں کی لاٹری جو خریدی جاتی ہے اس میں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اندر کیا ہے، بلکہ بعض اوقات تو خالی بھی نکل آتی ہے اور خریدنے والے کے پیسے ضائع ہو جاتے ہیں اسی طرح بعض اوقات کم قیمت چیز نکلتی ہے جس سے خریدار کو نقصان ہوتا ہے اور بعض اوقات لاٹری کی قیمت سے زیادہ کی چیز نکل آتی ہے۔ ایسی لاٹریاں دو حال سے خالی نہیں اگر ایسی ہیں کہ اس میں کوئی بالکل خالی بھی نکلتی ہے تو یہ واضح طور پر جوا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.