Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غسل میت سے پہلے میت کے پاس تلاوت کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 5201 :Sar
- Issued
- 21 محرم الحرام 1438ھ /23اکتوبر 2016ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میت کو غسل دینے سے قبل اس کے پاس کھڑے ہو کر قرآن کی تلاوت سائل : محمد اویس اشرف (فیصل آباد)
Answer (beginning)
میت کو غسل دینے سے پہلے اس کے پاس کھڑے ہو کر تلاوت کرنا مکروہ ہے ہاں البتہ اگر میت کے پورے بدن کو کسی پاک کپڑے سے چھپا لیا گیا ہو تو غسل دینے سے پہلے بھی اس کے پاس کھڑے ہو کر تلاوت کر سکتے ہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا جَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftachlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftoahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftoahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.