Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بینک سے لون دلوانے پر کمیشن لینا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ صفر المظفر 1441ه

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص بینک اور سود پر قرض لینے والے کے درمیان معاہدہ کروانا ہے اور اس معاہدے کے جو قانونی تقاضے ہیں ان کو پورا کرواتا ہے، تو کیا وہ بھی گناہ گار ہو گا؟

Answer (beginning)

جس طرح سود کا لین دین کرنا حرام و گناہ ہے اسی طرح سودی معاہدے کا گواہ بننا بھی حرام و گناہ ہے۔ نیز سود کے معاہدے پر جو بھی برادر است معاون و مددگار بنے گا وہ بھی اس جرم میں شامل کہلائے گا اور وہ بھی گناہ گار ہو گا۔ اللہ تبارک و تعالی قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے : ( وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ تَرجَمي كنز الایمان : اور نیکی اور پرہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کر و اور گناہ اور زیادتی پر باہم مددنہ دو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.