Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیع میں شرطِ فاسد لگانا جائز نہیں
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ صفر المظفر 1441ه
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں بیچ بیچنے کا کام کرتا ہوں۔ ہماری مارکیٹ میں جب زمیندار پیچ خرید نے آتا ہے تو دکاندار اسے بیچ بیچتے ہیں لیکن ساتھ میں یہ شرط لگاتے ہیں کہ آپ اپنی فصل ہمیں ہی بیچیں گے اس صورت کا کیا
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں خریداری کے ساتھ جو شرط لگائی گئی ہے وہ ناجائز و گناہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیچ کی بیع کے ساتھ فصل، بائع ( یعنی فروخت کرنے والے) کو بیچنے کی شرط، شریا فاسد ہے کیونکہ اس میں بائع ( فروخت کرنے والے) کا نفع ہے اور جس شرط کا عقد یعنی سودا تقاضانہ کرے اور اس میں معاہدہ کرنے والے دونوں فریق میں سے کسی کا نفع ہو وہ شرط فاسد ہوتی ہے اور شرط فاسد سے بیع فاسد ہو جاتی ہے اور بیع فاسد کا ارتکاب گناہ کا کام ہے۔ بہارِ شریعت میں ہے“ جو شرط مقضائے عقد کے خلاف ہو اور اس میں بائع یا مشتری یا خود مبیع کا فائدہ ہو ( جبکہ مبیع اہل استحقاق سے ہو ) وہ بیع کو فاسد کر دیتی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.