Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ویڈیوگیم کھیلنا اور اس کی اجرت لینا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ صفر المظفر 1441ھ
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ویڈیو گیم کھیلنا کیسا ہے ؟ اور اس کی اجرت لینا کیسا ہے ؟ اگر کوئی دکاندار لے چکا ہو تو اس کے لئے کیا احکام ہیں؟
Answer (beginning)
ویڈیو گیم عام طور پر جس طرح کھیلنا مروج ہے، ناجائز و حرام ہے کہ میوزک و بد نگاہی و غیر ہ اس کے عموما لازمی جزو ہیں اور یہ دونوں نا جائز و گناہ ہیں۔ اگر ویڈیو گیم ان گناہوں پر مشتمل نہ ہو تو بھی چونکہ عموماً بطور لہو و لعب کھیلی جاتی ہے ، اس لئے ممنوع ہے کہ کسی عبث میں وقت ضائع کرنا ممنوع ہے ، اور ویڈیو گیمز کی اجرت لینانا جائز و حرام ہے، لہذاد کاندار نے جتنی رقم اجرت میں حاصل کی ہے ، وہ دینے والوں کو واپس کرے اور اگر دینے والوں کا پتا نہ ہو تو اسے صدقہ کر دے، کیونکہ یہ لہو و معصیت پر اجارہ ہے ، جس کی اجرت کا یہی حکم ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.