Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چمگادڑکے متعلق احکام

Answered by
مولانا شاکر صاحب زید مجده مصدق مفتی قاسم صاحب مدظله العالی فتوی نمبر: 5206 :Sar
Fatwa no.
5206 :Sar
Issued
23 محرم الحرام 1438ھ /25اکتوبر 2016ء

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چمگادڑ کھانا حلال ہے یا حرام ؟ اس کی بیٹ اور پیشاب پاک ہے یا نا پاک ؟ اگر اس کی بیٹ یا پیشاب یاوہ خود پانی میں گر جائے تو پانی پاک رہے گا یانا پاک؟ اگر یہ پانی میں گر کر مر جائے اور وقت معلوم نہ ہو کہ کب گر کر مری ہے تو اس پانی کے پاک یا نا پاک ہونے کا اور نمازوں کا کیا حکم ہو گا جو اس پانی سے وضو کر کے پڑھی ہیں ؟ سائل : مولانا عمر فاروق

Answer (beginning)

چمگادڑ ماکول اللحم پرندوں میں سے ہے، اس کی بیٹ اور پیشاپ پاک ہے لہذا اگر اس کی بیٹ یا پیشاب یا یہ خود پانی میں گر جائے تو پانی ناپاک نہ ہو گا اگرچہ اس کا منہ پانی میں پڑ جائے بشر طیکہ یہ زندہ نکل آئے اور اس کے بدن پر ظاہری نجاست نہ ہو ، اور اگر وہ پانی میں گر کے مر جائے یا اس کے جسم پر کوئی ظاہری نجاست ہو تو پانی ناپاک ہو جائے گا۔ اگر گر کر مرنے کا وقت معلوم ہے تو اسی وقت سے پانی کو نا پاک تصور کیا جائے گا اور ان نمازوں کا اعادہ کیا جائے گا جو اس پانی سے وضو کر کے ادا کی گئیں اور جس کپڑے یا بدن وغیرہ کے حصہ کو ایک درہم کی مقدار یا اس سے زائد لگا انہیں بھی پاک کرنا ہو گا اور اگر گر کر مرنے کا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.