Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سُنار کا سونے کی مردانہ انگوٹھی بنانا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ محرم الحرام 1442ھ
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں سونے کا کاریگر ہوں، کیا میرے لئے سونے کی مردانہ انگوٹھی یا سونے کے بٹن بنانا، جائز ہے ؟
Answer (beginning)
ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ جن چیزوں کا استعمال جائز نہیں ان چیزوں کو بنانا بھی جائز نہیں اور جن چیزوں کا استعمال جائز ہے ان کا بنانا بھی جائز ہے، ایسے معاملات میں ہمیشہ اس اصول کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : “ یہ اصل کلی یا درکھنے کی ہے کہ بہت جگہ کام دے گی۔ جس چیز کا بنانا، نا جائز ہو گا اسے خرید ناکام میں لانا بھی ممنوع ہو گا اور جس کا خرید ناکام میں لانا منع نہ ہو گا اس کا بنانا بھی ناجائز نہ ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.