Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ایک ہی چیز مختلف کسٹمرز کو مختلف قیمت پر بیچنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ محرم الحرام 1442ھ

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دوکاندار اپنا سامان فروخت کرتے ہیں تو ہر کسٹمر کے لئے ان کا الگ الگ ریٹ ہوتا ہے، کسی کسٹمر سے دس ہیں روپے زیادہ لیتے ہیں اور دوسرے کسٹمر کو وہی چیز ستی بیچ دیتے ہیں، گاہک جھگڑتا ہے تو اس کو اور ستا کر دیتے ہیں۔ کیا ایسا کر ناشر عی اعتبار سے جائز ہے؟

Answer (beginning)

بیچنے والا اپنی چیز کا مالک ہے وہ جتنے کی چاہے بیچ سکتا ہے جبکہ خریدار کو دھوکا نہ دیا جائے۔ البتہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے ریٹ حکومت کی طرف سے مقرر ہوتے ہیں ، ان چیزوں کو ان کے مقرر کردہ ریٹ پر ہی بیچناضروری ہے کیونکہ قانون کی پاسداری کرنا لازم ہے لیکن بہت ساری چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں یہ قانون نہیں ہوتا ، جیسے کپڑے، فرنیچر وغیرہ جن کے ریٹ مقرر نہیں ہوتے تو ان چیزوں میں یہ کاروباری ٹول استعمال ہوتا ہے کہ “ جیسا گاہک ویسا بھاؤ۔ “ اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.