Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

خریداری کا وکیل اپنے لئے مال خریدے تو نئے قبضے کی صورت کیا ہوگی؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ذوالحجب الحرام 1441ه

Question

ہوگی؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے بکر کو اس بات کا وکیل کیا کہ وہ اس کے لئے مطلوبہ مقدار میں دھا گا خریدے، بکر نے مقررہ مقدار میں دھاگہ خرید لیا ابھی وہ دھاگا بکر کے قبضہ میں ہی ہے ، اگر بکر خریدا ہوا دھاگا زید سے خود اپنے لئے خریدنا چاہے تو کیا یہ جائز ہے ؟ اور اس خریداری کیلئے اسے جدید قبضے کی ضرورت ہو گی یا نہیں ؟ واضح رہے کہ زید بیرونِ ملک رہتا ہے اور بکر اس سے فون ہی پر معاملات طے کرتا ہے۔

Answer (beginning)

جی ہاں ! بکر کا زید سے وہ دھاگا خرید نا تو جائز ہے البتہ دوسری خریداری سے پہلے بکر کا جو دھاگے پر قبضہ ہے وہ خریداری کے قبضہ کے قائم مقام نہیں ہو سکتا بلکہ خریداری کے بعد بکر کو جدید قبضہ کی ضرورت ہوگی، کیونکہ بکر کے پاس جو دھاگا ہے وہ امانت ہے تو بکر کا اس پر قبضہ امانت کا قبضہ ہے ، اب جب بکر زید سے وہ دھاگا خریدے گا تو خریدنے میں قبضہ ضمان کی ضرورت ہوتی ہے اور ضمان کا قبضہ تو امانت کے قبضہ کے قائم مقام ہو جاتا ہے لیکن امانت کا قبضہ ضمان کے قبضہ کے قائم مقام نہیں ہوتابلکہ اس میں جدید قبضہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.