Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا ایک کپورے والے جانور کی قربانی جائز ہے؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ ذوالحجۃ الحرام 1441ھ
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بکرے کو خصی کیا گیا، خصی کرنے کے دوران اس کا ایک کپورا خراب ہو گیا، جس کو بعد میں نکالنا پڑا، لیکن وہ بکرا مکمل طور پر خصی ہو گیا۔ جس پر بعض لوگوں نے کہنا شروع کر دیا، کہ اس کا چونکہ ایک کپورا نکالا گیا ہے ، اس لیے اس کی قربانی نہیں ہو سکتی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا اس ایک کپورے والے بکرے کی قربانی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ شرعی راہنمائی فرمادیں۔ (سائل: محمد رمضان)
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں خصی بکرے میں ایک کپورا کم ہونے کی وجہ سے اس کی قربانی جائز ہے ، کیونکہ اگر کسی بکرے کے دونوں کپورے اور عضو تناسل کو بھی کاٹ لیا جائے ، تو فقہائے کرام نے ایسے بکرے کی قربانی کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔ لہذا اگر بکرے کا ایک ہی کپور نکالا گیا ہو ، تو اس کی قربانی تو بدرجہ اولی جائز ہوگی، کیونکہ خصی بکرے میں کپوروں کو کاٹنا، عیب نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے قربانی نا جائز ہو۔ اور جن لوگوں نے یہ کہا کہ ایسے خصی بکرے کی قربانی نہیں ہو سکتی ، ان کا کہنا غلط ہے ، اور ایسے لوگوں کو چاہیے بغیر علما سے پوچھے مسئلہ بتانے سے گریز کیا کریں، اور غلط مسئلہ بتانے کی وجہ سے تو بہ بھی کریں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.