Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازمیں فاتحہ سے پہلے سورت شروع کردی اور سجدہ سہو بھی نہ کیا اب کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
1015:gul
Issued
103 محرم الحرام 1438ھ/05اکتوبر 2016ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں عشاء کی نماز کیلئے پڑھ رہا تھا اور پہلی رکعت میں ثنا کے بعد تعوذ و تسمیہ پڑھنے کے بعد بھولے سے سورت فاتحہ کی جگہ سورت فیل شروع کر دی ابھی ایک ہی آیت پڑھی تھی کہ مجھے یاد آیا کہ پہلے سورت فاتحہ پڑھنی ہے تو میں نے سورت فاتحہ پڑھ کر دوبارہ سورت فیل پڑھی اور نماز مکمل کی لیکن آخر میں سجدہ سہو نہیں کیا تو کیا میری نماز ہو گئی یاد و بار ویٹر ھنا ہو گی ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں نماز واجب الاعادہ ہے کیونکہ بھولے سے سورت فاتحہ سے پہلے سورت کی ایک آیت یا اس کی مقدار پڑھنے سے سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے ، آپ نے بھی چونکہ سورۃ الفاتحہ سے پہلے سورۃ الفیل کی ایک آیت پڑھ لی تھی تو آپ پر بھی سجدہ سہو واجب تھا اور جب سجدہ سہو واجب ہو اور نہ کیا جائے تو نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے لہذا آپ کی نماز بھی سجدہ سہو نہ کرنے کی وجہ سے واجب الاعادہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.