Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پیر کے انتقال کے بعد کسی دوسرے کا مرید ہونا کیسا؟

Fatwa no.
1016:gul

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر مر شد دنیا سے پردہ فرما جائیں اور ان کے سلسلے کو کوئی آگے بڑھانے ولا نہ ہو تو کیا مریدین کسی اور نئے پیر سے بیعت کر سکتے ہیں ؟ سائل : عادل

Answer (beginning)

جب کوئی شخص کسی ایسے پیر کا مرید ہو جائے جس میں پیر بنے کی شرائط پائی جاتی ہوں تو اب بلاوجہ شرعی اس کی بیعت کو توڑ کر کسی دوسرے شیخ سے مرید ہو نا جائز نہیں ہے اور شیخ کا انتقال ہو جانا کوئی ایسی وجہ نہیں ہے جس کی وجہ سے بیعت کو ختم کر کے کسی نئے پیر سے مرید ہونے کی اجازت دی جائے۔ البتہ تربیت اور حصول فیض کے لئے کسی دوسرے جامع الشرائط پیر کا طالب ہونے میں حرج نہیں اور اس دوسرے پیر سے جو فیوض و برکات حاصل ہوں اسے اپنے پہلے پیر ہی کی عطا جانے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.