Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وقت پر پیمنٹ نہ کرنے پر اضافی رقم لینا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ذوالقعدة الحرام 1441ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی دکاندار سے کھاد وغیرہ چھ ماہ کی ادھار پر لیتا ہے مگر چھ ماہ میں نہیں دے پاتا بلکہ سال دو سال گزر جاتے ہیں تو کیا جس وقت وہ پیسے دے گاوہ اتنے ہی دے گا یازیادہ بھی لے سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

جتنے کا سودا ہوا اتنے ہی پیسے لئے جائیں گے اس سے زیادہ نہیں لے سکتے۔ کیونکہ رقم اس نے مال کے عوض دینی ہے اور مال میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اس نے قیمت ادا کرنے میں جو تاخیر کی ہے اس تاخیر کی بناء پر اضافی رقم وصول نہیں کر سکتے ، اگر کریں گے تو وہ سود ہوگا۔ ہاں اگر دینے والے نے بلا وجہ تاخیر کی ہے تو وہ گناہگار ہو گا۔ لیکن اگر تنگدست ہے کہ ادا ئیگی پر قادر نہیں نہ ہی کوئی ایسا مال ہے جسے بیچ کر ادا کر سکے تو گناہ نہیں بلکہ جہاں ادا ئیگی کے کوئی اسباب نہ ہوں تو وہاں تنگدست کو مہلت دینی چاہئے ، یہی قرآن کی تعلیمات ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.