Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قربانی کے جانور کا سینگ ٹوٹنا کب عیب شمار ہوتا ہے؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ذوالقعدۃ الحرام 1441ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک جانور خریدنے کا ارادہ ہے، مگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہے۔اس کے مالک سے پوچھا، تو اس نے بتایا کہ ایک سینگ ٹوٹ گیا تھا، دوسرے کو بھی ہم نے شروع سے ہی نکال دیا تھا، تو کیا ایسے جانور کی قربانی ہو سکتی ہے ، جبکہ جانور کے سر پر کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا اور نہ ہی سر پر اب کسی طرح کا کوئی زخم ہے۔ راہنمائی فرمائیں ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اس جانور کی قربانی جائز ہے، سینگ کا ٹوٹنا اس وقت عیب شمار ہوتا ہے ، جبکہ جڑ سمیت ٹوٹ جائے اور زخم بھی ٹھیک نہ ہوا ہو، لہذا اگر کسی جانور کا سینگ جڑ سمیت ٹوٹ جائے اور زخم بھر جائے ، تو اب اس کی قربانی ہو سکتی ہے ، کیونکہ جس عیب کی وجہ سے قربانی نہیں ہو رہی تھی ، وہ عیب اب ختم ہو چکا ہے ، لہذا اس کی قربانی ہو جائے گی۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta Ahlesunnot f…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.