Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زوجہ کی موجودگی میں اُس کی سگی بہن سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answered by
مفتی فضیل صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
0123:fmd
Issued
29 محرم الحرام 1438ھ /31اکتوبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ اپنی زوجہ کی موجودگی میں اُس کی سگی بہن سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ تحریری فتوی عطا فرمادیں تاکہ کسی کو سمجھایا جاسکے۔

Answer (beginning)

جب تک زوجہ کو طلاق ہو کر اُس کی عدت نہ گزر جائے یاز وجہ فوت نہ ہو جائے اُس کی بہن (خواہ سگی ہو ، باپ شریک ہو یاماں شریک ہو یاد ودھ شریک یعنی رضاعی کسی بہن) سے نکاح جائز نہیں، حرام قطعی ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَن مَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaohlesunnat.net f daruliftoahlesunnat Dar-ul-Ifta Ahlesunnat 包 feedback@daruliftoahlesunnat.net DaruliftAhlesunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.