Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ٹھیکیدار کام میں تاخیر کرے تو اس کے پیسے کاٹنا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ شوال المکرم 1441ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم کسی کو اپنے گھر کے لئے فرنیچر بنانے کا ٹھیکہ دیتے ہیں اور وقت بھی طے ہو جاتا ہے کہ اس ٹائم تک بنا کر دے گا، رقم بھی طے ہو جاتی ہے کہ اتنے پیسے ایڈوانس دیئے جائیں گے اور اتنے پیسے بیچ میں دینے ہوں گے۔ پھر وہ دو چار مہینے لیٹ کر دیتا ہے جو پیسے طے ہوئے کیا ان میں سے ہم پیسے کاٹ سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
جی نہیں ! یہ مالی مجرمانے کی صورت ہے اور دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق مالی حجر مانہ لینا جائز نہیں، فقہائے احناف کا یہی موقف ہے۔ لہذا یہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔ یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ آپ اس سے کہیں کہ ہمارے پیسے واپس دے دو اور باہمی رضامندی سے سودا کینسل کر دیا جائے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftachlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.