Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فیملی کو مستقل کراچی میں رکھا ہے اورخود حیدرآباد سے ہفتے میں دودن آنا ہوتا ہے نمازیں قصر ہونگی یا نہیں؟

Fatwa no.
11999:kan
Issued
27 محرم الحرام 1438ھ/29اکتوبر 2016ء

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں محمد عابد ولد حاجی محمد حسین ، میرا آبائی شہر حیدر آباد ہے، میری حیدرآباد میں مستقل رہائش ہے اور میر اوہاں کاروبار بھی ہے۔ میں کراچی میں بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں تقریباً 4 سال سے بیوی بچوں کے ساتھ مقیم ہوں۔ کراچی میں بھی میرا اپنا گھر ہے، میرے بیوی بچے کراچی میں رہتے ہیں۔ اور میں کاروبار کے سلسلے میں حیدرآباد میں رہتا ہوں اور ہفتہ بعد کراچی آتا ہوں، پھر ایک دو دن رہ کر چلا جاتا ہوں۔ میری مستقل کراچی رہنے کی نیت نہیں ہے بلکہ حیدرآباد میں مستقل رہائش رکھتی ہے۔ جبکہ بچوں کے حوالے سے یہ سوچا ہے کہ انہیں مستقل یہاں رکھوں ۔ اب میرے لئے نمازوں کا کیا حکم ہے ؟ حیدرآباد اور کراچی میں نماز کس طرح ادا کروں گا؟

Answer (beginning)

سائل : محمد عابد (مسلم آباد، کراچی) پوچھی گئی صورت میں حیدرآباد ہی آپ کا وطن اصلی ہے کراچی آپ کا وطن اصلی نہیں لہذا حیدرآباد میں آپ پوری نماز پڑھیں گے اگر چہ ایک دن کے لئے بھی حیدرآباد جانا ہو اور کراچی میں اگر آپ پندرہ (15) دن سے کم رہنے کے ارادے سے آتے ہیں جیسا کہ آپ نے کہا کہ ایک دو دن کے لئے آتے ہیں ، تو آپ نماز قصر ادا کریں گے۔ اگر کبھی کراچی میں 15 دن یا اس سے زائد رہنے کا ارادہ ہو تو پھر پوری نماز ادا کریں گے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.