حیض و نفاس کے مسائل

یہاں کے مآخذ حیض اور نفاس کے مسائل سے متعلق ہیں۔ بہار شریعت کے ایک اقتباس میں ہے کہ روزے کی حالت میں حیض یا نفاس شروع ہو جائے تو وہ روزہ جاتا رہا اور اس کی قضا رکھی جائے، نیز حیض و نفاس کی حالت میں سجدۂ شکر اور سجدۂ تلاوت حرام ہے۔ ایک فتوے میں نفاس کی مدت بیان کی گئی ہے کہ اس کی کم سے کم کوئی حد نہیں اور زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے۔ ایک اور فتوے میں وضاحت ہے کہ حمل کے دوران آنے والا خون حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے، لہٰذا اس دوران نمازیں معاف نہیں ہوتیں۔

فتاویٰ

  • نفاس کی مدت کتنی ہے ؟

    أربعون ”یعنی نفاس وہ خون ہے جو ولادت کے بعد نکلے، اس کی کمی کی جانب کوئی حد نہیں اور زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، خون چالیس دن سے زیادہ ہو جائے اور عورت کی عادت مقرر ہو تو عادت سے زائد خون استخارہ ہے اور پہلے کوئی عادت نہ ہو تو چالیس دن ہی نفاس کے ہیں۔ (المختار، کتاب الطہارۃ، ج 01، ص 30، مطبوعہ بیروت) بہار شریعت میں ہے "جس عورت کو۔۔۔

کتب سے

  • Auraton Ke Mutaliq Sharai Ahkam

    صفحات 133–135

    در مختار میں ہے: " ولو شرعت تطوعاً فيهما فحاضت قضتهما" یعنی اگر عورت نے نفلی روزہ رکھا یا نفلی نماز شروع کی اور اس دوران حیض آگیا تو نفلی نماز یا نفلی روزے دونوں صورتوں میں قضاء لا زم ہوں گے۔(1) صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحصة فرماتے ہیں: "روزے کی حالت میں حیض یا نفاس شروع ہو گیا، تو وہ روزہ جاتا رہا اس کی قضا رکھے ، فرض تھا، تو قضا فرض ہے اور نفل تھا، تو قضا واجب (2)" فتوی 104: والله…

  • Islami Behno Ki Namaz

    صفحات 223–225

    (رد المحتار، ج ١ ، ص ٥٤٤) (3) انتخاضہ اگر اس حد تک پہنچ گیا کہ بار بار خون آنے کے سبب ) اس کو اتنی مہلت نہیں ملتی کہ وضو کر کے فرض نماز ادا کر سکے تو نماز کا پورا ایک وقت شروع سے آخر تک اسی حالت میں گزر جانے پر اس کو معذور کہا جائیگا، ایک وضو سے اُس وقت میں جتنی نمازیں چاہے پڑھے، خون آنے سے اس کا وضو نہ جائے گا۔

  • Fatawa Razawiyya jild 4

    صفحات 354–356

    بینو اتو جروا الجواب: جب تک دم آئے نماز ترک کی جائے، ہاں اگر دس روز کا عمل سے آگے بڑھے تو غسل کر کے پڑھنا شروع کریں اور وہ پچھلا طمث جس کے بعد احتباس ہو گیا تھا اگر دس دن آیا تھا تو خیر ورنہ جب یہ دن دس سے بڑھے تو وہ جتنا دس سے کم تھا اتنے دنوں کی نماز قضا کی جائے مثلاً وہ چھ روز کا تھا تو چار دن کی نماز قضا کریں اور چار کا تو چھ کی و علی هذا القیاس والله تعالیٰ اعلم۔

  • Khawateen kay Masail

    صفحہ 10

    اگر نفاس ختم ہونے کے بعد پندرہ دن سے قبل خون آجائے تو وہ استحاضہ ہو گا، یونہی حمل والی عورت کو جو خون آئے وہ بھی استحاضہ ہوگا۔ نفاس کی کم سے کم کوئی مدت مقرر نہیں اور اسکی انتہائی مدت چالیس دن رات ہے۔ بعض جگہ رواج ہے کہ خواتین چلہ پورا کے بغیر نماز شروع نہیں کرتیں اگر چہ نفاس ختم ہو چکا ہو، یہ جہالت ہے۔

  • The Blessings of Dawat e Islami

    صفحات 27–30

    There 411 intensive New Muslim Course which can be for 7 days or 72 Its daily duration is six hours In this, they are taught ablution purification Quranic rules of recitation litanies of prayer actions of prayer, rulings of prayer, lofty religious virtues, worship and Islamic beliefs Regarding matters of faith, are taught the definitions of faith, polytheism, and disbelief Light is shed on the…

  • Sunni Bahishti Zewar

    صفحات 167–168

    (۱۳) عادت کے دنوں سے خون زیادہ آگیا دن چڑھ گئے تو حیض میں دس دن اور نفاس میں چالیس دن تک انتظار کرے اگر اس مدت کے اندر بند ہو گیا تو اب سے نہا دھو کر نماز پڑھے اور جو اس مدت کے بعد بھی جاری رہا تو نہائے اور عادت کے بعد باقی دنوں کی قضا کرے ۔ نماز کی بھی اور روزوں کی بھی۔

  • Aurat Aur Quran

    صفحات 261–263

    خطاب اگر چہ ازواج مطہرات کو ہے لیکن یہ حکم عام ہے اور تمام عورتوں کے ... بہار شریعت، حصہ دوم، نفاس کا بیان، 382/1 ا ... رد المحتار، کتاب الطهارة، 534/1 ... روح البیان، الاحزاب، تحت الآية: 171/7،33 259 www.dawateislami.net ________________ عورت اور قرآن لیے یہی حکم ہے کہ وہ نماز پڑھیں۔

بیانات میں

طہارت کے مزید موضوعات

اس صفحے پر لائبریری کے شائع شدہ ماخذ کا مواد درج ہے۔ اپنے مسئلے کے لیے کسی مستند مفتی سے رجوع کریں۔