غسل کا طریقہ
کتاب «Fundamental Teachings of Islam» (حصہ سوم) میں غسل کے تقاضے بیان کیے گئے ہیں کہ ناک کے اندر نرم ہڈی کے آخر تک پانی پہنچانا اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے تلووں تک جسم کے ہر حصے اور ہر رونگٹے پر پانی بہنا ضروری ہے۔ انوار الحدیث میں بخاری و مسلم کی روایات نقل کی گئی ہیں جن میں شرمگاہ دھونے اور پھر وضو کرنے کا ذکر ہے۔ بہار شریعت کے حوالے سے ایک اقتباس میں تنبیہ ہے کہ جس پر غسل واجب ہو وہ اس میں تاخیر نہ کرے، اور اگر اتنی تاخیر ہو گئی کہ نماز کا وقت آ گیا تو فوراً نہانا فرض ہو جاتا ہے۔ وضو اور غسل کے مسائل پر ایک بیان بھی شامل ہے۔
یہ جائزہ ان ماخذ پر مبنی ہے
کتب سے
- Ihya ul Uloom jild 1
صفحات 435–436
اس کے علاوہ مختلف احوال پیش آنے سے جن مسائل کی ضرورت پڑتی ہے ان کے لئے کتب فقہ کی طرف رجوع کریں۔ غسل کے فرائض: غسل میں دو فرض ہیں : (). نیت (۲) پورے بدن پر پانی بہانا۔ وضو کے فرائض: (1) وضو کے فرائض یہ ہے: (۱) نیت (۲) چہرے کا دھونا (۳) دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا (۴) اتنے حصے پر سح کرنا جس پر سر کا اطلاق ہو سکے (۵) دونوں پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھونا (1) ترتیب قائم رکھنا۔
- The Blessings of Gratitude
صفحات 23–25
136 Jaldbazi ke Nuqsanat, p 136 It is stated in Bahar e Shariat: One upon whom ghusl is compulsory (wajib) should not delay in bathing If one has delayed to the extent that the tinne for prayer has arrived, then performing the bath immediately becomes obligatory ( Fard) Any further delay at this point would render one sinful ( For further details, please refer to Bahar e Shariat, Volume 1, Part…
- Essential Rulings Regarding Ghusl
صفحات 6–10
ِّجِمِ rulings Day Essential regaraing Ghusl be the one who recites the most Salat upon me ( Tirmizi vol 2, p 27, Hudees 484) صلّ اللّهُ علی مُحمّد صلُوُا علی Dear Islamic brothers! You have heard that a 7O year-old man attended the learning session of the Madani Qafilah in which he learnt the Faraaid (obligatory acts) of Ghusl for the time There might be countless such Muslims who are unaware of…
- Islam Ki Bunyadi Batain Part 03
صفحات 109–111
غسل کے تین فرض ہیں : محمد الیا ان عطا قاری بیوی (۱) کلی کرنا: منہ میں تھوڑا سا پانی لے کر بیچ کر کے ڈال دینے کا نام کی نہیں بلکہ منہ کے ہر پرزے، گوشے، ہونٹ سے حلق کی جڑ تک ہر جگہ پانی یہ جائے۔ 0 (۲) ناک میں پانی چڑھانا : جلدی جلدی ناک کی نوک پر پانی لگا لینے سے کام نہیں چلے گا جہاں تک نرم جگہ ہے یعنی سخت ہڈی کے شروع تک دُھلنالازمی ہے۔
بیانات میں
طہارت کے مزید موضوعات
اس صفحے پر لائبریری کے شائع شدہ ماخذ کا مواد درج ہے۔ اپنے مسئلے کے لیے کسی مستند مفتی سے رجوع کریں۔